بھٹکل 18/ اگست (ایس او نیوز) بھٹکل میں گزشتہ دنوں موسلا دھار برسات کے نتیجہ میں جو سیلاب آیا تھا اس نے شہر کے مختلف علاقوں ، بازار اور آس پاس کے دیہاتوں کو اپنی لپیٹ لے لیا تھا ۔ اس میں ذات پات ، مذہب ، فرقہ ، مقامی یا بیرونی کی کوئی تمیز اور فرق نہیں ہے ۔ تمام متاثرین پریشان کن اور بہت ہی تکلیف دہ صورتحال سے گزرے ہیں ۔ ایسے حالات میں جب کسی کی طرف سے یہ شکایت سننے میں آئے کہ یہاں پر سرکاری معاوضہ کے لئے جو افسران معائنہ کرتے ہیں وہ مقامی آبادی اور بیرونی آبادی کی تفریق کر رہے ہیں تو عجیب سا لگتا ہے ۔
بھٹکل تقریباً 5 مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی مقامی آبادی 40 ہزار کے آس پاس ہے ۔ اس میں سے آبادی کا ایک بڑا حصہ بیرونی ممالک میں رہتا ہے ۔ لیکن دوسری طرف گزشتہ دو تین دہائیوں سے اتر پردیش ، راجستھان ، گجرات ، آسام ، بنگال جیسے ملک کے دوسرے حصوں سے یہاں روزگار اور کاروبار کے لئے آنے اور یہاں پر بسنے والوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے ۔ اور2 اگست کو آئے ہوئے سیلاب سے جن دکانوں میں پانی گھسنے سے نقصان ہوا ہے ان میں بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں ۔
بھٹکل میں باہر سے آ کر بسے ہوئے دو تین دکانداروں کی شکایت ہے کہ سیلاب سے نقصان کا جائزہ لینے کے لئے جو سرکاری اہلکار آئے تھے انہوں نے ان کی دکانوں کا پنچنامہ نہیں کیا ۔ ان کی بغل والی دکانوں کا معائنہ کرنے کے بعد ان کی دکانوں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے بغیر ہی وہاں سے نکل گئے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ لوگ مقامی نہیں ہیں اس لئے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس بات کی ضد نہیں کر رہے ہیں کہ انہیں معاوضہ دیا جائے ، لیکن جب ملک کے ہر ایک شہری کے لئے ایک ہی آدھار کارڈ ہے تو پھر ملک کے کسی بھی حصے میں کسی بھی شہری کے ساتھ مقامی اور غیر مقامی کا فرق کیسے ہو سکتا ہے ۔
ایک دکاندار نے بتایا کہ دکانوں میں نقصان کا تخمینہ لگانے کے لئے جو سرکاری افسر پہنچے تھے انہوں نے اس دکاندار سے پوچھا کہ تم لوگ کسے ووٹ دیتے ہو اور ووٹنگ کہاں کرتے ہو ؟ ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ ووٹنگ کے بارے میں پوچھنے آئے ہیں یا پھر نقصانات کا تخمینہ بنانے کے لئے آئے ہیں ۔ اس پر وہ لوگ نقصان کے بارے میں تفصیلات دریافت کیے بغیر ہی وہاں سے نکل گئے ۔
اس بارے میں جب تحصیلدار ڈاکٹر سومنت سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ایسے کسی معاملہ کی مجھے کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ اس تعلق سے ٹی ایم سی کے افسران سے جانکاری لی جائے گی ۔
سیلاب سے متاثرہ دکانداروں کے لئے معاوضہ کے تعلق جب پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ دکانوں کے لئے معاوضہ کتنا اور کس طرح دینا ہے اس بارے میں کوئی واضح ہدایت ابھی نہیں ملی ہے ۔ حکومت کو پہلے اس تعلق سے فیصلہ کرنے دیجیے ۔ سرکاری شرائط و ضوابط کے تحت آنے والے کسی بھی دکاندار کا نام اگر چھوٹ بھی گیا ہے تو معاوضہ دینے کا سلسلہ شروع ہونے پر اسے شامل کر لیا جائے گا ۔